ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پرمیشور سے داخلہ کا قلمدان چھینے جانے پر کانگریس میں بے چینی، پارٹی امور پر سدرامیا گروپ کے غلبے سے سینئر لیڈران ناراض

پرمیشور سے داخلہ کا قلمدان چھینے جانے پر کانگریس میں بے چینی، پارٹی امور پر سدرامیا گروپ کے غلبے سے سینئر لیڈران ناراض

Sat, 29 Dec 2018 10:45:17    S.O. News Service

بنگلورو29؍دسمبر(ایس او نیوز) نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور سے داخلہ کا قلمدان چھین کر سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کے معتمد ایم بی پاٹل کو دئے جانے کے سبب کانگریس میں نئے اور پرانے کانگریسیوں کا جھگڑا شدت اختیار کرتا جارہاہے۔ سدرامیا نے جس طرح پارٹی پر اپنی مضبوط گرفت اور اعلیٰ کما ن کو اعتماد میں لینے میں کامیابی دکھائی ہے اس کی وجہ سے پارٹی کا وہ طبقہ جو اپنے آپ کو بنیادی کانگریسی قرار دیتا ہے سخت ناخوش ہے۔ پرمیشور سے وزارت داخلہ لے کر ایم بی پاٹل کو دئے جانے پر سدرامیا وزارت میں توسیع کے دن سے ہی مصر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قلمدانوں کی تقسیم میں پانچ دنوں کا عرصہ لگ گیا۔ قلمدانوں کی تقسیم کے بعد سینئر کانگریس لیڈر بی کے ہری پرساد ، ویرپا موئیلی ، کے ایچ منی اپا، اور دیگر نے کابینہ کی تشکیل کے عمل پر سدرامیا کی اجارہ داری پر سخت برہم ہوئے ہیں اور کہا ہے کہ پچھلے چالیس سال سے پارٹی میں رہ کر محنت کرنے والوں کی کوئی وقعت نہیں ہے، چار پانچ سال قبل پارٹی میں شامل ہونے والا گروپ پارٹی کے تمام امور پر غالب ہوتا جارہا ہے۔ ان لیڈروں نے شکایت کی ہے کہ کابینہ کی توسیع کے مرحلے میں ان کے کسی بھی وفادار کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔اسی طرح سرکاری بورڈز اور کا رپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقرر میں بھی نئے کانگریسیوں کاغلبہ ہوگیا ہے۔ ان لیڈروں نے کہا ہے کہ سینئر کانگریس لیڈروں ایچ کے پاٹل، رام لنگا ریڈی وغیرہ و کابینہ میں توسیع کے مرحلے میں نظر انداز کرکے یہ تاثر دیاگیا ہے کہ کانگریس کے امور پر باہر والے غالب ہوچکے ہیں۔ کے ایچ منی اپنا نے وزارت میں اپنی دختر روپا ششی دھر کو شامل نہ کئے جانے پر برہمی ظاہر کی ہے ، جبکہ ویرپا موئیلی نے چکبالاپور سے نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر سدھاکر وزارت میں نہ لئے جانے پر ناراض ہوئے ہیں۔ داونگیرے نارتھ کے رکن اسمبلی اور بزرگ کانگریس رہنما شامنور شیوشنکرپا نے کابینہ میں موقع نہ دئے جانے پر برہم ہیں۔ ان تمام لیڈروں نے طے کیا ہے کہ پارٹی امور پر جس طرح نئے کانگریسی غلبہ حاصل کرتے جارہے ہیں اس کا سد باب کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ حکمت عملی اپنانی ضروری ہے۔
 


Share: